حدیث نمبر: 11595
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا“ قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ الْوَهَّابِ كَلَامٌ غَيْرُ هَذَا أَوْ هُوَ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ابدال کی واحد بدل ہے، لوگوں میں مشہور ہے کہ ہر زمانے میں اللہ کے انتہائی مقرب بندے روئے زمین پر موجود رہتے ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے کو اس کا نائب بنا دیتا ہے، ان مقرب شخصیات کو ابدال کہتے ہیں۔ مگر ابدال کے متعلق یہ تصور کسی صحیح حدیث میں ثابت نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11595
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «منكر، واسناده ضعيف من اجل الحسن بن ذكوان وعبد الواحد بن قيس السلمي، ثم رواية ھذا الاخير عن عبادة مرسلة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23131»