حدیث نمبر: 11591
حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ فَقَالَ مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ قَالَ يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ يَا مُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَا مُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ثَلَاثًا أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ أَنَّهُ قَالَ ”أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ“ وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ قَالَ فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَنِ التَّاسِعُ قَالَ نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا قَالَ وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مسجد اکبرمیں تشریف فرما تھے اور اہل کوفہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں سیدنا سعید بن زید ان کی خدمت میں آئے اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خوش آمدید کہا اور اپنی چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک اور آدمی آیا۔ اس نے آکر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرکے بہت زیادہ برا بھلاکہنے لگا۔ سیدنا سعید نے کہا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس نے کہا: اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب! کیا میں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، میرے دل نے خوب یاد رکھا ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی ایسا جھوٹ باندھنے والا نہیں، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت مجھ سے باز پر س کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ جنتی ہے، اور اہل ایمان میں سے نویں نمبر پر مسلمان ہونے والا جنتی ہے۔ میں چاہوں تو اس کا نام ذکر کر سکتا ہوں۔ ریاح کہتے ہیں: اس کی بات سن کر اہل مسجد زور زور سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول کے صحابی! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں آپ بتلائیں کہ نواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اب جبکہ تم لوگوں نے مجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہی ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ اللہ عظیم کی قسم میں اہل ایمان میں سے نواں ہوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے دسویں فرد ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری قسم اٹھا کر کہا کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوۂ میں شریک ہو اور اس میں اس کے چہرے پر غبار پڑی ہو وہ تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے افضل ہے خواہ اسے عمر نوح ہی مل جائے۔

وضاحت:
فوائد: … بہت سارے صحابہ کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی، جن دس صحابہ کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے، ان سے مراد وہ دس افراد ہیں کہ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی موقع پر جنت کی بشارت سنائی ہے، اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان دس میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ دیگر احادیث صرف دس صحابہ کا ہی نام لیا گیا ہے اور وہ دس صحابۂ کرام درج ذیل ہیں: سیدناابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا علی،سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن مالک، سیدنا سعید بن زید، سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11591
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4650، وابن ماجه: 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1629»