حدیث نمبر: 11582
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ ”رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ الَّتِي تَزِنُونَ بِهَا فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِهِمْ ثُمَّ رُفِعَتْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھی یہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ چابیاں، اس سے یہ تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ امت ان چابیوں کے ذریعے زمین کے خزانے دریافت کرے گی۔
یہ ترازو، جن سے تم وزن کرتے ہو، ممکن ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترازو دیئے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو عدل وانصاف کا حکم دیں، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ اس امت کو اسرار و رموز عطا کیے گئے ہیں، جن کے ذریعےیہ بعض امور کو بعض پر ترجیح دے گی، جیسے بعض انبیا کو بعض پر ترجیح دینا، بعض صحابہ کو بعض پر ترجیح دینا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہ ان ترازوؤں کو ان ہی ہستیوں کا وزن کرنے کے لیے لایا گیا ہو، تاکہ ان کی فضیلت ثابت ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11582
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبيد الله بن مروان في عداد المجھولين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5469»