حدیث نمبر: 11579
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ مِنْهُ شَرْبًا ضَعِيفًا قَالَ عَفَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔

وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی روایت میں ایک جملہ ساقط ہو گیا ہے، ممکن ہے کہ کاتب یا پبلشر سے یہ غلطی ہو گئی ہو، اس جملے کے علاوہ حدیث کا معنی سمجھ نہیں آتا، سنن ابو داود کی روایت مکمل ہے، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اس طرح ذکر ہے: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیر ہو کر پانی پیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوںنے ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا کم ہونا ہے، جو کہ دو برسوں سے کچھ زیادہ تھی اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے سیراب ہونے سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا طویل ہونا ہے، جو کہ بالترتیب تقریباً دس سال اور بارہ برس تھی، لرزے سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کا مختصر ہونا ہے، جو کہ چار برس اور نو ماہ تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4637 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20505»