الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ مِنْهُ شَرْبًا ضَعِيفًا قَالَ عَفَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌسیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔