حدیث نمبر: 11578
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ“ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکن یہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3695، 7262،ومسلم: 2403 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19738»