حدیث نمبر: 11576
قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَفِي رِوَايَةٍ قُفِّ الْبِئْرِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ قَالَ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ“ وَفِي رِوَايَةٍ وَسَيَلْقَى بَلَاءً فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو ۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائش سے مراد وہ حالات ہیں، جو ان کی شہادت کے وقت پیدا ہو گئے تھے اور جن کی وجہ سے وہ بالآخر شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه عن ابي موسي الاشعري البخاري: 3695، 7097، 7262ومسلم: 2403، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15448»