الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَعبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے سارے امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔