حدیث نمبر: 11575
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے سارے امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت کی بہت سی احادیث مروی ہیں، باب کی آخری حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر دو حضرات کی خلافت اور ان کے طریق کار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کے مطابق قرار دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہلے دونوں خلفاء کی خلافت اور ان کے کسی بھی امر پر قطعاً اعتراض نہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11575
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1055»