حدیث نمبر: 11573
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ”بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا قَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ“ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ ”وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا فَطَلَبَهُ فَأَدْرَكَهُ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ يَا هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي“ قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان و ایقان پر کتنا اعتماد تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تصدیق کی شہادت دے رہے ہیں،یہ شیخین کی بڑی عظیم منقبت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11573
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3471، ومسلم: 2388 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7345»