حدیث نمبر: 11572
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَنَا انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ”مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک مسجد کا نام تقوی تھا، شناخت کے لیے مسجد کا کوئی نام بھی رکھا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11572
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي ھلال ، ولجھالة ابي امين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10777»