الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَنَا انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ”مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةُسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔