حدیث نمبر: 11569
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ ”اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا“ فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! کیسی کرامت اور خوبصورت ترتیب، کیا بات ہے اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَاَرْضَاھُمْ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11569
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين ، اخرجه الطبراني في الاوسط : 6998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14604»