الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11568
عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَنْزِلَتِهِمَا السَّاعَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوں نے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کو حاصل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے کہ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کمرے میں مدفون ہیں، ایسے ہییہ اپنی زندگی میں تھے۔