الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11567
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حَبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … جب محبت اور راز داری زیادہ ہو تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہی بلا اختیار مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔