الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11564
عَنْ وَهْبِ بْنِ الشَّوَائِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا فَقُلْتُ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا خَيْرُ هَذِهِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
وضاحت:
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔