حدیث نمبر: 11563
حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ وَهْبَ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَلَا أُخْبِرُكَ أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ قُلْتُ بَلَى وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ قَالَ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو حجیفہ، جنہیں علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 835»