الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي قَالَ فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ قَالَ وَسَكَتَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَإِلَّا صُمَّتَاعبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلاؤں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔