حدیث نمبر: 11561
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَسْمَاءَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِيَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ آلْحَبَشِيَّةُ هِيَ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ فَقَالَتْ هِيَ لِعُمَرَ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَيُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا أَمَا إِنِّي لَا أَرْجِعُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں کہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آؤں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔

وضاحت:
فوائد: … مہاجرین حبشہ کی فضیلت و منقبت بھی مسلم ہے کہ انہیں دو ہجرتوں کا ثواب ہوگا، انہوںنے ایک دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور دوسری دفعہ مدینہ منورہ کی طرف۔
گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر بن خطاب کی تائید نہیں کی جو یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم نے حبشہ کی طرف جانے والوں سے پہلے ہجرت کی۔ بلکہ آپ نے حبشہ کی طرف جانے کو بھی اللہ کی طرف ہجرت قرار دیا اور اسماء اور دیگر قافلہ کو دو ہجرتیں کرنے والے قرار دیا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4230، 4231، ومسلم: 2503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19753»