حدیث نمبر: 11559
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ ”لَا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیں ہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر بندے کے پاس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ زبان سے اچھے انداز میں شکریہ ادا کرے اور اس انداز میں تعریفی کلمات کہے کہ احسان کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہو جائے، لیکن تعریف کرنے میں نہ غلوّ کیا جائے اور نہ احسان کرنے والاریاکاری میں مبتلا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4812، والترمذي: 2487 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13153»