الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ خَيْرِ دُوْرِ الْأَنْصَارِ باب: انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ“ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ“ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ”بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ انصار کے سب سے اچھے گھرانے کون کون سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور بیان فرمائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو عبدالاشھل، یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر بنو حارث بن خزرج۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر انصار کے سب ہی گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ معمر سے مروی ہے کہ ثابت اور قتادہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان دونوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے سنا تو انہوں نے سب سے پہلے بنو نجار کا اور ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا ذکر کیا۔