حدیث نمبر: 11550
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ ”مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا معنییہ ہے کہ قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے کے لیے نکلتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14102»