الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ترجیح و تفریق کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ غیر انصاریوں کو انصاری لوگوں پر ترجیح دی جائے، اس سے بندے کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاریوں کو صبر کرنے کا اور انتقام نہ لینے کا حکم دیا۔