الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11539
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا قَالَ فَدَعَا لَهُمْ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے تقاضے پورے کیے ہیں، ان کی نسل اور حلیف بھییہ سلسلہ جاری رکھیں اور بیچ میں انقطاع نہ آنے دیں۔