الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: انصار کے فضائل و مناقب
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ“ وَفِي لَفْظٍ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔