الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ وَمَنَاقِبِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: انصار کے فضائل و مناقب
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیراب کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔