حدیث نمبر: 11524
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جب یہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے زمانے میں ہی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، لیکن ان پاکیزہ ہستیوں کا دور گزر جانے کے بعد جن بدعات، خرافات، آزمائشوں اور فتنوں کا سلسلہ شروع ہوا، اس کی دورِ صحابہ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11524
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»