حدیث نمبر: 11517
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل (یا مال غنیمت سے) کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔

وضاحت:
کے ذبح ہونے کی صورت میں سیدنا طلبہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت دکھائی گئی، جنہوں نے اس دن جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور گائے ذبح ہونے کی صورت میں حضرات صحابۂ کرام میں سے ستر آدمیوں کی شہادت کی نشاندہی کی گئی تھی اور مدینہ بہترین پناہ گاہ ثابت ہوا، شکست و شہادت کے بعد مسلمان سرخرو ہوئے تھے اور آپ کے گھر والوں میں سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت مینڈھے کے ذبح ہونے کی صورت میں دکھائی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرج أوله الي قوله يوم احد : الترمذي: بعد الحديث: 1561، وابن ماجه: 2808، وأخرج بأطول مما ھنا الحاكم: 2/ 128، والبيھقي: 7/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2445»