حدیث نمبر: 11506
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي بِأَرْضِ كَذَا وَكَذَا بِأَرْضِ الشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا“ فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَظْهَرُنَّ عَلَيْهَا قَالَ فَكَتَبَ لَهُ بِهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ كَلْبِيَ الْمُكَلَّبَ وَكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ قَالَ ”إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ وَإِنْ قَتَلَ وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ وَكُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ وَإِنْ قَتَلَ وَسَمِّ اللَّهَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ قَالَ ”إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيْنَا قَالَ ”لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حارث بن مسلم بن حارث تمیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دی، جس میں اپنے بعد آنے والے خلفاء کے نام ان کے حق میں وصیت کرکے اس پر مہرثبت فرمائی تھی۔
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سرزمین شام کی فلاں فلاں زمین کے متعلق میرے حق میں تحریر لکھ دیں، حالانکہ ابھی تک وہ سر زمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے میں نہیں آئی تھی۔ تو اس کی بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: کیا تم سن رہے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ ضرور بالضرور اس سر زمین کے مالک بنیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس زمین کے بارے میں تحریر لکھ دی، سیدناابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہمارا علاقہ شکار کا علاقہ ہے، میں اپنے سدھا ئے ہوئے اور غیر سدھائے کتے کو شکار کی طرف بھیجتا ہوں، اس بارے میں ہدایت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکارکی طرف بھیجو اور بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے لو تو تمہارا سدھایا ہوا کتا تمہارے لیے جو جانور پکڑ کر لائے گا،تم اسے کھا سکتے ہو، خواہ وہ مر چکا ہو اور اگر تم اپنا غیر سدھایا کتا شکار کی طرف بھیجو اور وہ جس جانور کو پکڑ کر لائے اسے تم خود ذبح کر لو تو کھا سکتے ہو اور جس شکار کو تمہارا تیر جا لگا خواہ وہ چیز
مر جائے تو اللہ کا نام لے کر کھا لو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ اہل کتاب کا ہے، وہ لوگ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ ہم ان کے برتنوں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے سوا کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو اسے اچھی طرح مانجھ کر ان میں پکا سکتے ہو اور پی بھی سکتے ہو۔ سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کونسے جانور حلال ہیں اور کونسے حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم گھریلو گدھے اور کجلی والے درندے نہیں کھا سکتے۔

وضاحت:
فوائد: … شکار وغیرہ کے احکام کتاب الصید والذبائح میں گزر چکے ہے، یہاں اس روایت سے مقصود زمین کے بارے میں تحریر کرناہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11506
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قصة الارض، وھذا اسناد منقطع، ابو قلابة الجرمي لم يسمع من ابي ثعلبة، أخرجه الترمذي: 1797 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17889»