حدیث نمبر: 11502
قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى قَالَ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى قَالَ يَعْقُوبُ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو اپنا مکتوب دے کر کسریٰ کی طرف روانہ فرمایا، انہوں نے وہ مکتوب بحرین کے حاکم کے سپرد کیا تاکہ وہ اسے کسریٰ تک پہنچا دے،پس حاکم بحرین نے وہ مکتوب کسریٰ تک پہنچا دیا، اس نے جب وہ مکتوب پڑھا تو اسے پھاڑ ڈالا۔ سعید بن مسیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کے اس عمل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر یہ بد دعا کی کہ (ان کو یوں ہلاک کیا جائے کہ) وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔

وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت میں اس حدیث کا مفصل ذکر موجود ہے: محمد بن عمر اسلمی اپنی سندوں کے ساتھ چند ایک صحابہ، جن میں سے بعض کی احادیث کے الفاظ دوسروں کی احادیث میں خلط ملط ہو گئے، سے بیان کرتے ہیں، انھوںنے کہا:بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّھْمِیَّ، وَھُوَ أَحَدُ السِّتَّۃِ، إِلٰی کِسْرٰییَدْعُوْہُ إِلَی الْإِسْلَامِ وَکَتَبَ مَعَہٗکِتَابًا: قَالَعَبْدُاللّٰہِفَدَفَعْتُإِلَیْہِ کِتَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُرِئَ عَلَیْہِ، ثُمَّ أَخَذَہٗفَمَزَّقَہٗ،فَلَمَّابَلَغَذٰلِکَرَسُوْلَاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ مَزِّقْ مُلْکَہٗ۔)) وَکَتَبَ کِسْرٰی إِلٰی بَاذَانَ عَامِلِہٖعَلَی الْیَمَنِ أَنِ ابْعَثْ مِنْ عِنْدِکَ رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ إِلٰی ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ بِالْحِجَازِ، فَلْیَأْتِیَانِیْ بِخَبَرِہٖ،فَبَعَثَبَاذَانُقَھْرَمَانَہُوَرَجُلًاآخَرَوَکَتَبَمَعَھُمَاکِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِیْنَۃَ، فَدَفَعَا کِتَابَ بَاذَانَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَتَبَسَّمَ
رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَدَعَاھُمَا إِلَی الْإِسْلَامِ وَفَرَائِصُھُمَا تَرْعَدُ وَقَالَ: ((اِرْجِعَا عَنِّیْیَوْمَکُمَا ھٰذَا حَتّٰی تَأْتِیَانِیَ الْغَدَ فَأُخْبِرُکُمَا بِمَا أُرِیْدُ۔)) فَجَائَ اہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ لَھُمَا: ((أَبْلِغَا صَاحِبَکُمَا أَنَّ رَبِّیْ قَدْ قَتَلَ رَبَّہٗکِسْرٰی فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ، جو چھ میں ایک تھے، کو کسری کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا اور ایک خط بھی لکھا۔ عبد اللہ بن حذا فہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط کسری تک پہنچایا، وہ اس پر پڑھا گیا، اس نے خط پکڑا اور پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی بادشاہت کے پرخچے اڑا دے۔ پھر کسری نے یمن کے گورنر باذان کی طرف خط لکھا کہ کوئی دو باہمت آدمی اس حجاز والے شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیج تاکہ وہ ہمیں اس کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ باذان نے اپنے میرمنشی اور ایک دوسرے آدمی کو اپنا خط دے کر بھیجا۔ یہ دونوں مدینہ پہنچے اور باذا ن کا خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور انھیں دعوتِ اسلام دی، اس وقت ان کے مونڈھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ تم دونوں آج چلے جاؤ، کل مجھے ملنا، میں تمھیں اپنے ارادے پر مطلع کروں گا۔ جب وہ دوسرے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں فرمایا: میری بات اپنے لیڈر (باذان) تک پہنچا دو کہ اِس رات میرے ربّ نے اس کے ربّ کسری کو ہلاک کر دیا ہے۔
(ابن سعد: ۱/۲۵۸۔ ۲۶۰، صحیحہ: ۱۴۲۹)
خسرو پرویز کی بادشاہت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا کا مصداق بنی، رومیوں نے کسری کے لشکر کو بدترین شکست دی، پھر خسرو کے بیٹے شیرویہ نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اسے قتل کر کے بادشاہت پر قبضہ کر لیا، پھر وہاں افتراق و انتشار کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا، تا آنکہ خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلامی لشکر نے اس ملک پر قبضہ کر لیا اور یہ بادشاہت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11502
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2939، 4424 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2184»