حدیث نمبر: 11497
عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي“ قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”لِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ“ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے حق میں دعائے مغفرت کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری پر پلان کسو۔ اس پر آپ سوار ہوگئے اور میں بھی ساتھ ساتھ پیدل چلتا گیا، آگے جا کر آپ اپنی سواریسے نیچے اترے اور میں سواری کو پکڑے کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم جس حال میں ہو تمہیںیہ حالت مبارک ہو۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزید غلاموں کے نام درج ذیل ہیں:ـ
سیدنا اسامہ، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا ثوبان، سیدنا ابو کتبہ اوس، سیدنا صالح حبشی معروف شقران، سیدنا رباح اسود نوبی، سیدنایسار راعی، سیدنا ابو یسار زید، سیدنا مدعم، سیدنا رفاعہ بن زید جزامی، سیدنا مامور قبطی، سیدنا واقد، سیدنا ابو واقد، سیدنا انجشہ، سیدنا شمعون بن زید، سیدنا ابو ریحانہ اور سیدنا ابو بکرہ نفیع بن حارث۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض لونڈیوں کے نام درج ذیل ہیں: سیدہ ام ایمن، سیدہ سلمیٰ ام رافع، سیدہ ماریہ اور ان کی بہن سیدہ قیصر اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہن۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (۴۳) غلام اور گیارہ لونڈیاں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11497
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبيد بن جبير، والحكمُ بن فصِيل مختلف فيه، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 340، والطبراني في الكبير : 22/ 872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092»