الفتح الربانی
— باب
بَابُ ما جاءَ فِي ذِكْرِ بَعْض مَوَالِيهِ ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض غلاموں کا تذکرہ
عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ ”اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا“ قَالَ لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ”الصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ“سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک فرد کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تو اس نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم بھی میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاؤ تاکہ آپ کو بھی کچھ حصہ مل جائے؟ انہوں نے کہا:نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لوں، نہیں جاؤں گا، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ہے اور کسی قوم کا غلام بھی اسی قوم کا فرد ہوتا ہے۔