حدیث نمبر: 11494
عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ ”اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا“ قَالَ لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ”الصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک فرد کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تو اس نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم بھی میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاؤ تاکہ آپ کو بھی کچھ حصہ مل جائے؟ انہوں نے کہا:نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لوں، نہیں جاؤں گا، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ہے اور کسی قوم کا غلام بھی اسی قوم کا فرد ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کا نام ابراہیمیا اسلم یا ثابت یا ہرمز تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس آل پر صدقہ حرام ہے، ان کے غلاموں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود:1650، والترمذي: 657، والنسائي: 5/107 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27724»