حدیث نمبر: 11489
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ ”دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ“ أَوْ قَالَ ”لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہوتا تو وہ ہو جاتا ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہو جانے والے نقصان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقدیر کی طرف منسوب کر کے بچے کو تسلی دے دیتے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے خون کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیسا سلوک ہے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13451»