الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْدِ بَعْضِهِنَّ لَهُ وَاحْتِمَالِهِ إِبْدَاءَ هُنَّ وَعَفْوِهِ عَنْهُنَّ وَتَوَاضُعِهِ فِي بَيْتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11488
عَنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر آکر کیا کچھ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … امہات المؤمنین اگرچہ نبی کی بیویاں اور ساری امت میں سے نہایت نمایاں مقام کی حامل تھیں، تاہم بتقضائے بشریت ان کے مابین بھی سوکنون والی لڑائی اور ناراضگی کی نوبت آہی جاتی تھی،یہ خواتین کا ایسا طبعی معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسانی کے ساتھ اس کو برداشت کر جاتے تھے۔