الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْدِ بَعْضِهِنَّ لَهُ وَاحْتِمَالِهِ إِبْدَاءَ هُنَّ وَعَفْوِهِ عَنْهُنَّ وَتَوَاضُعِهِ فِي بَيْتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11487
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھییا نماز کی اقامت کا وقت ہو چکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی ازواج کے مابین کوئی بحث ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو ایک دوسری سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے مونہوں میں مٹی ڈالیں اور آپ نماز کے لیے تشریف لے چلیں۔