حدیث نمبر: 11482
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ ”وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ“ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ يَعْنِي قَوْلَهُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے پاس آئے۔ تو ایک شتر بان (حدی خوان) ان کے اونٹوں کو ہانکے جا رہا تھا۔ اس کا نام انجشہ تھا۔ آپ نے فرمایا، انجشہ! تمہارا بھلا ہو۔ تم ان آبگینوں کو ذرا آرام سے لے چلو۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا لفظ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی اور آدمی یہ لفظ بولتا تو تم اسے معیوب گردانتے۔ یعنی آپ نے اس سے کہا کہ ان آبگینوں کو آرام سے لے چلو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مراد عورتوں کی رقت، ضعف اور نزاکت ہے اور یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ عام طور پر خواتین وفا پر دوام اختیار نہیں کر سکتیں اور بہت جلدی رضامندی کی حالت سے پھر جاتی ہیں، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔
بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
سیّدنا انجشہ رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبشی غلام تھے، ان کی کنیت ابو ماریہ تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12966»