حدیث نمبر: 11479
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ ”إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا تیار کرتے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے کھانے کا ایک پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تھے، میں غیرت کی وجہ سے اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر سکی اور میں نے وہ پیالہ توڑ ڈالا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کی خواہشات کا خیال رکھتیں اور آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ آپ اگر کسی دوسری اہلیہ کے ہاں ہوتے تو کھانا وغیرہ ادھر ہی بھیج دیتی تھیں تاکہ آپ کھانا تناول کر لیں۔
عام عورتوں کی طرح امہات المؤمنین کو بھی آپس میں ایک دوسری پر غیرت آجاتی تھی،یہ ایسا طبعی معاملہ ہے کہ شاید ہی اس پر کنٹرول کیا جا سکے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا، کہتے ہیں کہ ایک خاتون پورے جہاں کو اپنے اندر سما سکتی ہے، البتہ ایک سوکن کو نہیں سما سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25670»