الفتح الربانی
— باب
بَابُ ظُهُورٍ عَدْلِهِ وَ كَرَمِ أَخْلَاقِهِ فِي قِصَّةِ الْقَصْعَةِ الَّتِي كَسَرَتْهَا عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ ”إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا تیار کرتے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے کھانے کا ایک پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تھے، میں غیرت کی وجہ سے اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر سکی اور میں نے وہ پیالہ توڑ ڈالا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
عام عورتوں کی طرح امہات المؤمنین کو بھی آپس میں ایک دوسری پر غیرت آجاتی تھی،یہ ایسا طبعی معاملہ ہے کہ شاید ہی اس پر کنٹرول کیا جا سکے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا، کہتے ہیں کہ ایک خاتون پورے جہاں کو اپنے اندر سما سکتی ہے، البتہ ایک سوکن کو نہیں سما سکتی۔