الفتح الربانی
— باب
بَابُ ظُهُورٍ عَدْلِهِ وَ كَرَمِ أَخْلَاقِهِ فِي قِصَّةِ الْقَصْعَةِ الَّتِي كَسَرَتْهَا عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
حدیث نمبر: 11478
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتِ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ لِلَّتِي كَسَرَتْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کو روک لیا،یہاں تک کہ دوسری ام المؤمنین نے اپنا پیالہ لا کر دیا تو جس ام المؤمنین کا پیالہ ٹوٹا تھا، اس کی طرف دوسرا صحیح پیالہ اس خادم کے ہاتھ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا ان کے پاس رہنے دیا جنہوں نے توڑا تھا۔