الفتح الربانی
— باب
بَابُ ظُهُورٍ عَدْلِهِ وَ كَرَمِ أَخْلَاقِهِ فِي قِصَّةِ الْقَصْعَةِ الَّتِي كَسَرَتْهَا عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَ أَظُنُّهَا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ فَكُسِرَتِ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”غَارَتْ أُمُّكُمْ“ قَالَ وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ ثُمَّ قَالَ ”كُلُوا“ فَأَكَلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَاسیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا کسی دوسری اہلیہ کے ہاں موجود تھے، کسی دوسری ام المؤمنین نے اپنے خادم کے ہاتھ کھانے کا ایک پیالہ بھیج دیا، تو آپ جس کے گھر تھے، اس نے اس خادم کے ہاتھ پر جھپٹا مار کر پیالے کو توڑ ڈالا۔ یہ عالم دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور کھانا اٹھا کر اس ٹوٹے ہوئے پیالے ہی میں ڈالنے لگے اور فرمایا: لو کھا لو۔ دوسرے موجود لوگوں نے کھانا کھا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا لانے والے خادم اور پیالے کو روک لیا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔