الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْلِهِ ﷺ بَيْنَهُنَّ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَطَوافِهِ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فِي سَاعَةٍ أَوْ ضَحْوَةٍ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور¤دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 11476
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی درج بالا تینوں احادیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہیں۔