الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْلِهِ ﷺ بَيْنَهُنَّ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَطَوافِهِ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فِي سَاعَةٍ أَوْ ضَحْوَةٍ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور¤دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 11472
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ جَلَسَ فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوروں کی ایک پلیٹ یا کھلا برتن دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ مٹھیاں بھر بھر کر کھجوریں اپنی ازواج کے ہاں بھجوانے لگے، اس کے بعد باقی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کھائیں کہ واضح طور پر پتہ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی حاجت تھی۔