الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهَجَرَ النَّبى ﷺ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مِنْ أَجْلِهَا باب: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ“ فَقَالَتْ أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً لَا يَأْتِيهَا قَالَتْ حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْدُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ قَالَ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار پڑ گیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس زائد اونٹ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے، کیا خیال ہے کہ اگر تم اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ ان کو دے دو۔ انھوں نے کہا: میں اس یہودن کو اونٹ دوں؟ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے اور ذوالحجہ و محرم کے دو تین مہینے تک ان سے لا تعلق رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں اتنے عرصہ تک نہ گئے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آپ کے راضی ہونے سے مایوس ہوگئی اور میں نے اپنی چارپائی اٹھا کر ایک طرف کھڑی کر دی تھی کہ اچانک ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کا سایہ دیکھا۔ عفان نے کہا:حماد نے یہ حدیث شمیسہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی۔ عفان کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دفعہ حماد نے مجھے یہی حدیث شمیسہ سے بیان کی کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی۔ اور بعد میں انہوں نے یوں کہا کہ یہ واقعہ حج کا تھا یا عمرے کا۔ عفان کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حجہ الوداع میں پیش آیا تھا۔