الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهَجَرَ النَّبى ﷺ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مِنْ أَجْلِهَا باب: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ“ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَقَالَ ”كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ“سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ میں داخل ہوئیں تو لوگ آگئے، میں بھی لوگوں کے ساتھ آگیا، تاکہ ان کے ساتھ ولیمہ میں میں بھی شریک ہو جاؤں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیمہ سے باہر چلے گئے اور فرمایا: تم بھی اپنی ماں کے پاس سے اٹھ آؤ۔ پھر جب پچھلا پہر ہوا تو ہم پھر جمع ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، آپ کی چادر کے ایک پلو میں ڈیڑھ مد کے قریب عجوہ کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: یہ کھاؤ، یہ تمہاری ماںکا ولیمہ ہے۔