الفتح الربانی
— باب
بَابُ التَّاسِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ميمونة بنت الْحَارِثِ خَالَةِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا ، یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ“ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي فِي الْبَعْثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَا“ فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهَامولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ایک دستے میں میرے نام کا بھی اندراج کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر میمونہ کو لے آؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرا نام تو فلاں دستے میں لکھا جا چکا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں وہ کام پسند نہیں، جو مجھے پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم جا کر میمونہ کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور ان کو لے آیا۔ یہ حدیث دلیل ہے کہ قابل اعتماد مسلمان غلام کو دوران سفر عورت کے ساتھ روانہ کیا جاسکتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)