الفتح الربانی
— باب
بَابُ الْخَامِسَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَمْ سلمة رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍعروہ سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں، وہ نجاشی کے ہاں گیا تھا اور وہیں (مرتد ہو کر) مر گیا۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ ہی میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح نجاشی نے کیا تھا اور اسی نے آپ کی طرف سے ان کو چار ہزار دیناربطور مہر ادا کئے تھے۔ پھر اس نے ان کے سفر کی تیاری کرکے ان کو شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ ان کی مکمل تیاری اور سازو سامان نجاشی کی طرف سے تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز نہیںبھیجی تھی۔ باقی ازواج کے مہر چار سو درہم تھے۔