حدیث نمبر: 11449
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عاصم بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع کر لیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام: رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃُ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے، اگرچہ وہ روزے رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہو۔ کبھی کبھار تو ایسے ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں شیر و شکر نہیں ہو پاتے اور بیوی اپنے خاوند کی اطاعت کے سارے تقاضے پورے نہیں کر پاتی، نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے اور بسا اوقات بعض ایسے داخلی امور طلاق کا سبب بن جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ جن پر مطلع نہیں ہو سکتے۔ ان وجوہات کی بنا پر طلاق کو قاضی کی موافقت یا مخالفت پر موقوف کر دینااس وقت کی سب سے بڑی کم عقلی اور بری بات ہے۔ اکثر حاکموں، قاضیوں اور خطیبوں کی زبانوں پر یہ حدیث رواں ہے: ((اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ۔)) … اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ جبکہ یہ ضعیف ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۰۴۰) وغیرہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔
(صحیحہ: ۲۰۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 17/466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16020»