الفتح الربانی
— باب
بَاب مَا جَاءَ فِي مَرَضِ مَوْتِهَا وَتَزْكِيَة ابْنِ عَبَّاسٍ إِيَّاهَا باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
حدیث نمبر: 11445
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهَا إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لِاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: محض آپ کی فضیلت کے اظہار کے لیے آپ کو ام المؤمنین کہا گیا ہے، ورنہ آپ کی ولادت سے قبل ہی (اللہ تعالیٰ کے ہاں) آپ کے لیےیہ اعزاز مقدر تھا۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رات کو ہوا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی ان کی تدفین کر دی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … عبد اللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔