الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي رُؤْيَتِهَا لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَسَلامُهُ عَلَيْهَا وَمَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 11443
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثریدکو باقی سارے کھانوں پر۔
وضاحت:
فوائد: … مردوں میں بڑے بڑے باکمال اور کثیر تعداد میں افراد گزرے ہیں، جیسے انبیاء و رسل، صالحین، شہید، پرہیزگار، مجاہدین اور ذاکرین وغیرہ، لیکن خواتین میںایسا کمال کم عورتوںکے نصیبے میں آیا۔