حدیث نمبر: 11439
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا قُلْتُ رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ ”وَرَأَيْتِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ“ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ قَالَ سُفْيَانُ الدَّخِيلُ الضَّيْفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے دیکھا،میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ان سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ میں نے جواباً کہا:وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اللہ تعالیٰ اس ساتھی اور مہمان کو جزائے خیر دے، وہ بہترین ساتھی او ربہترین مہمان ہے۔ امام احمد کے شیخ امام سفیان بن عینیہ نے الدخیل کا معنی مہمان بیان کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11439
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد الھمداني، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 95 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24966»