الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي شِدَّةِ ذَكَائِهَا وَفَهْمِهَا وَعِلْمِهَا بِالشَّعْرِ وَالتَّارِيخ وَالطَّبُ وَالْفِقْهِ الَّذِي عَمَّ جَمِيعَ الآفاق باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَلمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیایہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں میں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔
عورت کا چہرے پر تیل، کریم اور پاؤڈر وغیرہ لگانا درست ہے، جس سے زینت میں اضافہ ہو، ہاں اگر ان میں کوئی ایسے کیمیکل ہوں، جن سے چہرے کے بال بھی صاف ہو جائیں تو وہ ناجائز ہو گا، باقی اس قسم کے مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین، سمجھ دار، اشعار اور علم تاریخ کی عالمہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم طب کی معلومات سے بھی بہر ہ ور تھیں، جب مختلف وفود آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائوں اور نسخوں کا ذکر کرتے، تو آپ کے علاج معالجہ کی خدمات سیدہ رضی اللہ عنہا ادا کیا کرتی تھیں۔