الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي شِدَّةِ ذَكَائِهَا وَفَهْمِهَا وَعِلْمِهَا بِالشَّعْرِ وَالتَّارِيخ وَالطَّبُ وَالْفِقْهِ الَّذِي عَمَّ جَمِيعَ الآفاق باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّتَاهُ لَا أَعْجَبُ مِنْ فَهْمِكِ أَقُولُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالشِّعْرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ أَقُولُ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ وَلَكِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالطِّبِّ كَيْفَ هُوَ وَمِنْ أَيْنَ هُوَ قَالَ فَضَرَبَتْ عَلَى مَنْكِبِهِ وَقَالَتْ أَيْ عُرَيَّةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِهِ أَوْ فِي آخِرِ عُمْرِهِ فَكَانَتْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَتَنْعَتُ لَهُ الْأَنْعَاتَ وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّعروہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتے تھے: اماں جان! میں آپ کی ذہانت اور سمجھ داری پر تعجب نہیں کرتا، کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں۔ (اس لیے سمجھ دار ہونا تعجب انگیز نہیں)، مجھے آپ کے علم اشعار اور تاریخی معلومات پر بھی تعجب نہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں، جو کہ اشعار اور تاریخ کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ مجھے تو آپ کی طبی معلومات پر تعجب ہے کہ یہ آپ کو کیسے حاصل ہوئیں؟ تو انہوں نے میری بات سن کر میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ مار کر کہا: اے عُرَیَّۃُ! آخری عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار رہتے تھے تو آپ کی خدمت میں اطراف و اکناف سے عرب و فود آیا کرتے تھے اوروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائیں اور نسخے بیان کرتے اور میں آپ کا علاج معالجہ کیا کرتی تھی۔ مجھے یہ معلومات اس طرح حاصل ہوئیں۔