الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِيثِ الْإِفِكِ وَمِحْنَةِ عَائِشَةَ وَنُزُولِ بَرَاءَ تِهَا مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ باب: واقعۂ افک ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزمائش اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی براء ت کا نزول
حدیث نمبر: 11434
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری براء ت کا اعلان نازل ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا تذکرہ کیا اور قرآن کی نازل شدہ آیت کی تلاوت فرمائی اور منبر سے نیچے اتر کر آپ نے دو مردوں اور ایک عورت پر تہمت کی حد جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔