حدیث نمبر: 11428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَيْهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ إِلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دُونَكِ فَانْتَصِرِي“ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے پتہ ہی نہ چل سکا حتیٰ کہ ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصے میں بھری ہوئی بلا اجازت آدھمکیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ کے سامنے اپنے ہاتھوں اور کلائیوں کے اشارے کرتی ہے تو آپ اسی کی بات مانتے ہیں۔ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں اور میں ان کی باتیں خاموشی سے سنتی رہی، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی کچھ کہو اور بدلہ لو۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف رخ کیا۔ (یعنی ایسی جوابی کاروائی کی) میں نے دیکھا کہ ان کا منہ خشک ہو گیا اور وہ مجھے کچھ نہ کہہ سکیں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25127»